حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ

Categories: Other
Tags:
Posted on: February 19, 2018 at 2:14 pm
Views: 60

حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عبداللہ بن ہشام بن عثمان قریشی ، یہ قبیلہ قریش میں خاندان بنی تیم سے تعلق رکھتے ہیں ۴ھ میں پیدا ہوئے , اہل حجاز کے محدثین میں ان کا شمار ہوتاہے اور ان کے شاگردوں میں ان کے پوتے زہرہ بن معبد بہت مشہور محدث ہیں ۔

حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بچپن ہی میں ان کی والدہ حضرت زینب بنت حمید حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں لے گئیں اورعرض کیا: یا رسول اللہ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم آپ میرے اس بچے سے بیعت لے لیجئے ۔

حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو بہت ہی چھوٹا ہے ۔ پھراپنا مقدس ہاتھ ان کے سر پر پھیرا اوران کے لیے خیر وبرکت کی دعا فرمادی ۔

اسي دعائے نبوی ﷺ کی بدولت ان کو یہ کرامت حاصل ہوئی کہ ان کو تجارت میں نفع کے سواکسی سودے میں کبھی بھی نقصان ہوا ہی نہیں ۔

روایت ہے کہ یہ اپنے پوتے زہرہ بن معبد کو ساتھ لے کر بازار میں جاتے اورغلہ خریدتے تو حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان سے ملاقات کرتے اورکہتے کہ ہم کو بھی آپ اپنی اس تجارت میں شریک کرلیجئے اس لئے کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کے لیے خیروبرکت کی دعا فرمائی ہے ۔

پھر یہ سب لوگ اس تجارت میں شریک ہوجاتے تو بسا اوقات اونٹ کے بوجھ برابر نفع کمالیتے اور اس کو اپنے گھر بھیج دیتے ۔

معلوم چلا کہ نیک او رصالح لوگوں کو اپنے کاروبار اور روزگار میں اس نیت سے شریک کرلینا کہ ان کی برکت سے ہم فیض یاب ہوں گے ۔یہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کامقدس طریقہ ہے ۔

چنانچہ پرانے زمانے کے خوش عقیدہ اورنیک تاجروں کا یہی طریقہ تھا کہ وہ جب کوئی تجارت کرتے تھے تو کسی عالم دین یا پیر طریقت کا کچھ حصہ اس تجارت میں مقرر کر کے ان بزرگوں کو اپنا شریک تجارت بنالیتے تھے تاکہ ان اللہ والوں کی و جہ سے تجارت میں خیر وبرکت ہو۔

اسی لئے آج کل بھی بعض خوش عقیدہ اورنیک بخت مؤمن خصوصاًمیمن اپنی تجارت میں حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حصہ دار بنالیتے ہیں اور نفع میں جتنی رقم حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام کی نکلتی ہے ۔

اس کو یہ لوگ نیاز کھاتہ کہتے ہیں اور اسی رقم سے یہ لوگ گیارہویں شریف کی فاتحہ بھی دلاتے ہیں اورعالموں اورسیدوں کو اسی رقم سے نذرانہ بھی دیا کرتے ہیں ۔ یقینایہ بہت ہی اچھا طریقہ ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم

اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو اور ان صدقے ہماری مغفرت ہو ،،، آمین ۔

( کرامات صحابہ، ص؛174 تا 176 ، مدینہ لائبریری ، دعوت اسلامی )

( منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)